فهرس الكتاب

الصفحة 95 من 211

آخرت کو اپنا مطمۂ نظر بنانا

دنیا میں رزق کے اسباب میں سے ایک یہ ہے، کہ بندہ (آخرت کو اپنا مطمۂ نظر اور اصلی مقصود بنالے۔)

اس بارے میں ذیل میں دو عنوانات کے ضمن میں گفتگو ملاحظہ فرمائیے:

ا: تین دلائل

ب: ان دلائل کے حوالے سے دو باتیں

ا: تین دلائل:

۱: امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''مَنْ کَانَتِ الآخِرَۃُ ہَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ غِنَاہُ فِيْ قَلْبِہٖ ، وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ، وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا، وَہِيَ رَاغِمَۃٌ…الحدیث۔'' [1]

''جس شخص کا مطمۂ نظر آخرت ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں تونگری رکھ دیتے ہیں، اس کے بکھرے ہوئے معاملات سدھار دیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس ذلیل و حقیر ہوکر آتی ہے۔''

امام بزار کی روایت میں ہے:

''مَنْ کَانَتْ نِیَّتَہُ الْآخِرَۃُ جَعَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی الْغِنٰی فِيْ قَلْبِہٖ، وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ، وَنَزَعَ الْفَقْرَ مِنْم بَیْنِ عَیْنَیْہِ، وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَہِيَ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت