فهرس الكتاب

الصفحة 141 من 211

تجارت میں سچائی اور چیز کا عیب بیان کرنا

رزق کے اسباب میں سے ایک (لین دین میں سچ بولنا اور پیش کردہ چیزکا عیب واضح کرنا) ہے۔ توفیقِ الٰہی سے اس بارے میں حسبِ ذیل دو عنوانات کے ضمن میں گفتگو کی جارہی ہے:

ا: دلیل

ب: دلیل کے حوالے سے پانچ باتیں

ا: دلیل:

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا۔ فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُوْرِکَ لَہُمَا فِيْ بَیْعِہِمَا۔ وَإِنْ کَذَبَا وَکَتَمَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہِمَا۔'' [1]

''لینے اور دینے والے، دونوں جدا ہونے تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار رکھتے ہیں۔ پس اگر دونوں نے سچ بولا اور (چیز کا عیب) بیان کیا، تو اُن کے لین دین میں برکت ڈالی جائے گی اور اگر دونوں نے جھوٹ بولا اور (چیز کا عیب) ، چھپایا، تو لین دین کی برکت کو مٹا دیا جائے گا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت