فهرس الكتاب

الصفحة 106 من 211

اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی تعمیل کرنے کا نام (الإحسان) ہے۔ وہ احکامات چاہے بندے کی اپنی ذات سے متعلق ہوں یا دیگر لوگوں کے بارے میں ۔ امام ابن قیم لکھتے ہیں:

''وَالْإِحْسَانُ ہٰہُنَا ہُوَ فِعْلُ الْمَأْمُوْرِ بِہٖ، سَوَآئً کَانَ بِإِحْسَانِہٖ إِلَی النَّاسِ أَوْ إِلٰی نَفْسِہٖ۔'' [1]

''اس مقام پر (الإحسان) (سے مراد) حکم کو بجالانا ہے، خواہ وہ لوگوں کی طرف احسان (کی شکل میں) ہو یا اپنے نفس کی جانب۔''

۲:(دنیا میں حسنۃ)سے مراد:

چار مفسرین کے اقوال:

''ہِیَ الرِّزْقُ الْحَسَنُ۔'' [2]

(وہ عمدہ رزق ہے۔)

'' (حَسَنَۃٌ) مُکَافَأَۃُ فِيْ الدُّنْیَا بِإِحْسَانِہِمْ، وَلَہُمْ فِيْ الْآخِرَۃِ مَا ہُوَ خَیْرٌ مِّنْہَا۔) [3]

(( حَسَنَۃٌ) اُن کے احسان کے بدلے میں دنیا میں اُن کا صلہ ہے اور (آخرت میں اُنہی کے لیے اس سے بہتر(بدلہ) ہے۔ )

[2] تفسیر البغوي ۳/۶۷؛ وتفسیر الخازن ۴/۸۸۔

[3] الکشاف ۲؍ ۴۰۷۔ ۴۰۸۔ قریب قریب یہی معنٰی حضراتِ مفسرین ابوحیان، بیضاوی اور ابوسعود نے بیان کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: البحر المحیط ۵/۴۷۴؛ وتفسیر البیضاوي ۱/۵۴۳؛ وتفسیر أبي السعود ۵/۱۱۰) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت