فهرس الكتاب

الصفحة 148 من 211

روایت نقل کی ہے، (کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''کِیْلُوْا طَعَامَکُمْ، یُبَارَکْ لَکُمْ فِیْہِ۔'' [1]

(اپنے غلّے کو ماپ لیا کرو، تمہارے لیے اس میں برکت ہوگی۔)

۴: امام ابن النجار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، انہوں نے فرمایا:

''کِیْلُوْا طَعَامَکُمْ، فَإِنَّ الْبَرَکَۃَ فِيْ الطَّعَامِ الْمَکِیْلِ۔'' [2]

(اپنے غلّے کو ماپ لو، کیونکہ ماپے ہوئے غلّے میں برکت ہے) ۔

ب: ان روایات کے حوالے سے سات باتیں:

۱: غلّے کے ماپنے کا مقصود:

اس کا مقصود یہ ہے، کہ اس کی مقدار معلوم ہوجائے۔

علامہ مظہر بیان کرتے ہیں:

''اَلْغَرَضُ مِنْ کَیْلِ الطَّعَامِ مَعْرِفَۃُ مِقْدَارِ مَا یَسْتَقْرِضُ الرَّجُلُ، وَیَبِیْعُ وَیَشْتَرِيْ۔'' [3]

(اناج کے ماپنے کی غرض و غایت یہ ہے، کہ آدمی کے قرض لیے ہوئے، فروخت کردہ اور خرید شدہ غلّے کی مقدار معلوم ہوجائے۔)

علامہ عینی لکھتے ہیں:

[2] منقول از: صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ، رقم الحدیث ۴۵۹۹، ۲/۸۴۳۔ شیخ البانی نے اسے (صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲/۸۴۳) ۔ علامہ مناوی لکھتے ہیں، کہ اسے ابن النجار نے اپنی (تاریخ) میں روایت کیا ہے اور القضاعی وغیرہ نے بھی۔ (ملاحظہ ہو: فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ۵/۶۰) ۔

[3] بحوالہ: شرح الطیبي ۹/۲۸۵۰۔ نیز دیکھئے: مرقاۃ المفاتیح۸؍۳۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت