فهرس الكتاب

الصفحة 149 من 211

''اَلسِّرُّ فِيْ الْکَیْلِ لِأَنَّہٗ یُتَعَرَّفُ بِہٖ مَا یَقُوْتُہٗ وَمَا یَسْتَعِدُّہٗ۔'' [1]

(ماپ میں حکمت یہ ہے، کہ اس کی وجہ سے خوراک کے لیے جو(اناج) رکھا اور تیار کیا جاتا ہے، اس کی مقدار معلوم ہوجاتی ہے۔)

۲: لین دین کے وقت ماپ تول کی حکمت:

غلّے کے لین دین کے وقت بائع و مشتری دونوں اس کے ماپ تول کرنے کے پابند ہیں، تاکہ اس کی مقدار مجہول نہ رہے اور عدل و انصاف قائم رہے۔ علامہ مظہر اپنے مذکورہ بالا بیان کے بعد لکھتے ہیں:

''فإِنَّہٗ لَوْ لَمْ یَکِلْ لَکَانَ مَا یَبِیْعُہٗ وَیَشْتَرِِیْہِ مَجْہُوْلًا، وَلَا یَجُوْزُ ذٰلِکَ۔'' [2]

(کیو نکہ اگر اسے ماپا نہ گیا، تو فروخت کردہ اور خرید شدہ چیز مجہول ہوگی اور وہ جائز نہیں۔)

اسی حوالے سے علامہ طیبی رقم طراز ہیں:

''اَلْکَیْلُ عِنْدَ الْبَیْعِ وَالشِّرَآئِ مَاْمُوْرٌ بِہٖ لِإِقَامَۃِ الْقِسْطِ وَالْعَدْلِ۔'' [3]

(عدل و انصاف قائم کرنے کی خاطر، بیع و شراء کے وقت ماپ کرنے کا حکم ہے۔)

علامہ مناوی نے تحریر کیا ہے:

''أَ مَّا فِيْ الْبَیْعِ وَالشِّرَآئِ فَظَاہِرٌ۔'' [4]

[2] منقول از: شرح الطیبي ۹/۲۸۵۰۔ ۲۸۵۱۔

[3] المرجع السابق ۹/۲۸۵۱۔

[4] فیض القدر شرح الجامع الصغیر ۵/۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت