فهرس الكتاب

الصفحة 119 من 211

(انہوں(یعنی اللہ تعالیٰ) نے اُس شخص سے بھی رزق کا وعدہ فرمایا ہے، جو کہ اپنے کنبے کو نماز کا حکم دے اور خود اس کی خوب پابندی کرے اور یہ (بات) اُن کے ارشادِ عالی: {وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْہَا} میں ہے۔)

''إِقَامُ الصَّلَاۃِ بَیْنَ أَفْرَادِ الْأُسْرَۃِ الْمُسْلِمَۃِ یُیَسِّرُ اللّٰہُ بِہٖ أَسْبَابَ الرِّزْقِ وَتَوْسِعَتِہٖ عَلَیْہِمْ۔'' [1]

(اللہ تعالیٰ مسلمان کنبے کے افراد کے نماز قائم کرنے سے اُن کے لیے رزق اور اُس کی وسعت کے اسباب آسان فرمادیتے ہیں) ۔

''جو شخص نماز اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کے لیے رزق کا معاملہ آسان کردیتے ہیں۔'' [2]

''غرض ہماری نماز سے اُس (یعنی اللہ تعالیٰ) کا کچھ فائدہ نہیں، البتہ ہمارا فائدہ ہے، کہ نماز کی برکت سے بے غائلہ روزی ملتی ہے۔'' [3]

ج: دلیل کے حوالے سے چار تنبیہات:

۱: آیتِ شریفہ میں اگرچہ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، لیکن اس کے عمومی حکم

[2] معارف القرآن ۶/۱۶۵۔

[3] قرآن کریم مع ترجمہ و تفسیر، ف ۹، ص ۴۲۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت