فهرس الكتاب

الصفحة 177 من 211

استقامت

رزق کے اسباب میں سے ایک (استقامت) ہے۔ اس کے متعلق حسبِ ذیل دو عنوانات کے ضمن میں گفتگو ملاحظہ فرمایئے:

ا: دلیل

ب: دلیل کے حوالے سے دو باتیں

ا: دلیل:

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

{وأَنْ لَّوِ استَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَأَسْقَیْنَاھُمْ مَآئً غَدَقًا} [1]

(اور(یہ وحی کی گئی ہے،) کہ اگر وہ لوگ راہِ (حق) پر استقلال اختیار کرتے، تو یقینا ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے)۔

ب: دلیل کے حوالے سے دو باتیں:

۱: استقامت کا معنٰی:

دو علماء کے اقوال:

۱: علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

'' اِسْتِقَامَۃُ الْإِنْسَانِ لَزُوْمُہٗ الْمَنْہَجَ الْمُسْتَقِیمَ '' [2]

(انسان کی استقامت درست منہج کو چمٹنا ہے۔)

۲: امام نووی نے تحریر کیا ہے:

[2] المفردات في غریب القرآن، مارۃ ''قوم'' ، ص ۴۱۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت