''وَالْمَعْہُوْدُ مِنْ کَرَمِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَلُطْفِہٖ أَنْ یَّرْزُقَہٗ، مَا فِیْہِ کِفَایَۃٌ لَّہَا وَلَہٗ۔'' [1]
(اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کے بارے میں یہ مشہور و معروف بات ہے، کہ وہ اُسے(یعنی شادی کرنے والے کو اتنا) رزق عطا فرماتے ہیں، جو اُس کی بیوی اور اُس کے لیے کافی ہوتا ہے۔)
''فِیْہِ الْحَثُّ عَلَی النِّکَاحِ، وَأَنَّہٗ مَجْلَبَۃٌ لِّلرِّزْقِ۔'' [2]
(اس(آیت) میں نکاح کی ترغیب ہے اور بلاشبہ وہ رزق کو کھینچنے والا ہے۔)
''اَلظَّاہِرُ أَ نَّہٗ وَعْدٌ مِّنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِالْإِغْنَآئِ۔'' [3]
(ظاہر(یہی) ہے، کہ بلاشبہ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے غنی کرنے کا وعدہ ہے۔)
''وَقَوْلُہُ تَعَالٰی فِيْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ الْکَرِیْمَۃِ {اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ} فِیْہِ وَعْدٌ مِّنَ اللّٰہِ لِلْمُتَزَوِّجِ الْفَقِیْرِ مِنَ الْأَحْرَارِ ، وَالْعَبِیْدِ بِأَنَّ اللّٰہَ یُغْنِیْہِ، وَاللّٰہُ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔'' [4]
(اس آیت ِکریمہ میں ارشادِ باری تعالیٰ: اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ
[2] الإکلیل في استنباط التنزیل ص ۱۹۳۔
[3] روح المعاني ۱۸؍ ۱۴۸۔
[4] أضواء البیان ۶/۲۱۷۔