''تَزَوَّجُوْا النِّسَآئَ فَإِنَّہُنَّ یَأْتِیْنَکُمْ بِالْمَالِ۔'' [1]
''خواتین سے شادی کرو، پس بلاشبہ وہ تمہارے پاس مال لاتی ہیں''
۴: امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے فرمایا:
''أَطِیْعُوْا اللّٰہَ فِیْمَآ أَمَرَکُمْ بِہٖ مِنَ النِّکَاحِ یُنْجِزْ لَکُمْ مَا وَعَدَکُمْ مِنَ الْغِنٰی۔ قَالَ تَعَالٰی: {اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ} ۔'' [2]
(تم نکاح کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو، وہ تونگری کے سلسلے میں تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ، پورا فرمائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ: اگر وہ محتاج ہوں گے(،تو) اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیں گے۔)
۵: امام بغوی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:
''عَجِبْتُ لِمَنِ ابْتَغَی الْغِنٰی بِغَیْرِ النِّکَاحِ، وَاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {اِِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ} ۔'' [3]
[2] تفسیر ابن کثیر ۳/۳۱۵؛ نیز دیکھئے: الیسیر في اختصار تفسیر ابن کثیر ص ۱۲۷۱؛ وتفسیر غرائب القرآن ورغائب الفرقان، ۱۸/ ۸۴ (المطبوع بہامش تفسیر الطبري) ؛ والإکلیل في استنباط التنزیل ص ۱۹۳۔
[3] تفسیر البغوي ۳/۳۴۲۔ نیز ملاحظہ ہو: المصنف لعبد الرزاق، کتاب النکاح، باب وجوب النکاح وفضلہ، رقم الروایۃ ۱۰۳۸۵ و ۱۰۳۹۳، ۶/۱۷۰۔ ۱۷۱ و ۱۷۳ ؛ وأحکام القرآن للجصاص ۳/۳۲۰؛ وتفسیر القرطبي ۱۲/۲۴۱۔