''ثَلَاثٌ کُلُّہُمْ حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ عَوْنُہٗ:
اَلْمُجَاہِدُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ،
وَالنَّاکِحُ الْمُسْتَعْفِفُ،
وَالْمُکَاتَبُ یُرِیْدُ الْأَدَآئَ۔'' [1]
(تین(اقسام کے لوگ) ، اللہ تعالیٰ پر ان سب کی مدد کرنا لازم [2] ہے:
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا،
حرام سے بچنے کی خاطر نکاح کرنے والا
اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتب [3] )
۳: امام حاکم اور امام بزار نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
[2] یہ لازم اور واجب ہونا، اللہ کریم کے اپنے وعدے کی بنا پر ہے، وگرنہ اُن پر تو، کسی کے لیے، کچھ بھی واجب نہیں۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۵/۲۴۲؛ وہامش المسند ۱۲/۳۷۹) ۔
[3] (مکاتَب) : وہ غلام جو ایک متعینہ مدت میں ایک مقررہ رقم ادا کرکے، اپنے آقا سے آزاد ہونے کا معاہدہ کرتا ہے۔