الرَّحِمِ مَحَبَّۃٌ فِيْ الْأَہْلِ، مَثْرَاۃٌ فِيْ الْمَالِ، مَنْسَأَۃٌ فِيْ الْعُمْرِ۔'' [1]
''اپنے قربت داروں کے متعلق معلومات حاصل کرو، تاکہ صلہ رحمی کرسکو۔ بلاشبہ صلہ رحمی سے خاندان میں محبت، مال میں کثرت اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں صلہ رحمی کے تین ثمرات بیان فرمائے ہیں اور ان تین میں سے دوسرا ثمرہ اور فائدہ (مال میں اضافہ) ہے۔
۴: حضراتِ ائمہ عبد اللہ بن احمد، بزار اور طبرانی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
''مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّمَدَّ لَہٗ فِيْ عُمْرِہٖ، وَیُوَسَّعَ لَہٗ فِيْ رِزْقِہٖ، وَیُدْفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْٓئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ۔'' [2]
''جو شخص اس بات کو پسند کرے، کہ اس کی عمر میں اضافہ ہو، اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس سے بُری موت دور کی جائے، وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اس بات کی خبر دی ہے، کہ جس میں دو
[2] المسند ، رقم الحدیث ۱۲۱۳، ۲/۲۹۰؛ ومجمع الزوائد ۸/۱۵۲۔ ۱۵۳۔ الفاظِ حدیث المسند کے ہیں۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں: عبداللہ بن احمد ، بزار اور طبرانی نے (المعجم] الأوسط میں روایت کیا ہے۔ بزار کے راویان ماسوائے عاصم بن حمزہ کے (صحیح کے راویان]ہیں اور عاصم (ثقہ] ہیں۔ شیخ أحمد شاکر نے اس کی (سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۱۵۳؛ وہامش المسند للشیخ احمد شاکر ۲/۲۹۰) ۔