فهرس الكتاب

الصفحة 155 من 211

ا: امام بخاری نے لکھا ہے:

(بَابُ مَا یُسْتَحَبُّ مِنَ الْکَیْلِ) [1]

(( اناج کے) ماپ تول کے مستحب ہونے کے متعلق باب)

ب: امام ابن ماجہ نے تحریر کیا ہے:

(بَابُ مَا یُرْجٰی فِيْ کَیْلِ الطَّعَامِ مِنَ الْبَرَکَۃِ) [2]

(غلّے کے ماپ تول میں برکت کی اُمید کے متعلق باب)

ج: امام بیہقی رقم طراز ہیں:

(بَابُ مَا جَآئَ فِي ابْتِغَآئِ الْبَرَکَۃِ مِنْ کَیْلِ الطَّعَامِ) [3]

(غلے کے ماپ تول سے برکت طلب کرنے کے متعلق وارد شدہ(احادیث) کے متعلق باب)

تنبیہ:

ان تینوں عناوین میں اناج کے ماپ تول کی بدولت حاصل ہونے والی برکت کو بیع و شراء کے ساتھ مخصوص نہیں کیا گیا۔

۶: (برکت کے ہونے سے) مراد:

علامہ مناوی لکھتے ہیں:

''أَيْ یَحْصُلُ فِیْہِ الْخَیْرُ وَالْبَرَکَۃُ وَالنَّمُوُّ۔'' [4]

(یعنی اس میں خیر ، برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔)

۷: ماپ تول کرتے وقت اتباعِ سنت کی نیت کا ہونا:

اناج کا ماپ تول کرتے وقت، نیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل

[2] سنن ابن ماجہ ص ۳۷۴۔

[3] السنن الکبریٰ ۶/۵۲۔

[4] فیض الباري ۵/۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت