اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساٹھ کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے نقل کیا ہے ' ان میں سے عشرہ مبشرہ بھی ہیں ۔ پھر ان سے خلق کثیر نے روایت کیا ہے ۔
متواتر معنوی: وہ حدیث ہے جس کے معنی کلی پر راویوں کا اتفاق ہو ۔مگر ہر حدیث اپنے خاص الفاظ میں منفر د ہو ' جیسے: احادیث شفاعت ' اورمسح علی الخفین۔ شاعر نے اس کے متعلق کہا ہے:
'' متواتر احادیث میں سے حدیث: '' من کذب …'' ہے ۔ اور: '' ومن بنی للّٰہ بیتا واحتسب '' کو بھی اسی میں شمار کیا جائے۔ اور رؤیت باری تعالیٰ' شفاعت ' اور حوض کی احادیث ، اور مسح علی الخفین ( موزوں پر مسح) یہ ان میں سے بعض احادیث ہیں ۔
ج: اس کا فائدہ: متواتر اپنی دونوں قسموں میں ان امور کا فائدہ دیتی ہے:
اول: علم ، اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو منقول ہے ' اس کی صحت کا قطعی یقینی ہونا ۔
دوم: اس کے مطابق عمل ۔ اگروہ خبر ہے تو اس کی تصدیق ' اور اگر حکم ہے تو اس کی بجا آوری۔
دوم: آحاد:
(۱) … آحاد کی تعریف
(ب) … اس کی اقسام باعتبار طرق مع تمثیل
(ج) …اس کی اقسام باعتبار رتبہ مع تمثیل
(د) … اس کا فائدہ
ا: آحاد کی تعریف:
'' متواتر کے علاوہ تمام احادیث کو آحاد کہتے ہیں ۔
ب: خبر کی طرق کے اعتبار سے اقسام (تین اقسام ) :
مشہور:
مشہور وہ حدیث ہے جس کو تین یا اس سے زیادہ راوی روایت کریں ' مگر یہ متواتر کی حد