فهرس الكتاب

الصفحة 17 من 107

طرف منسوب کی جاتی ہے۔ [1] جب کہ حدیث قدسی کا معنی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے' لفظ نہیں ۔ اس لیے حدیث قدسی کی تلاوت سے عبادت نہیں کرتے ۔ اور نہ ہی یہ نماز میں پڑھی جاتی ہے۔ اور نہ ہی اس سے چیلنج کیا جاسکتا ہے ۔اور نہ ہی یہ تواتر سے ایسے منقول ہے جس تواتر سے قرآن منقول ہے ۔ بلکہ اس میں صحیح بھی ہوتی ہے ' ضعیف بھی اور موضوع بھی ۔

خبر کی نقل کے اعتبار سے اقسام:

متواتر:

(۱) … متواتر کی تعریف (ب) …اس کی اقسام مع مثال (ج) …اس کا فائدہ

ا: متواتر کی تعریف: متواتر وہ ہے جس کو بہت بڑی جماعت روایت کرے ۔ اور عادت میں ان سب کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو' اور یہ حدیث محسوس چیز کا فائدہ دیتی ہو۔''

ب: اس کی اقسام مع مثال: متواتر کی دو قسمیں ہیں:

اوّل…: متواتر لفظی و معنوی دوم…: متواتر معنوی فقط

متواتر لفظی و معنوی وہ ہے جس کے لفظ اور معنی پر راویوں کا اتفاق رہا ہو۔

اس کی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

(( مَن كذبَ عليَّ متعمِّدًا فليتبَوَّأ مقعدَهُ منَ النّارِ۔ ) ) [2]

'' جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔''

[2] دیکھیں: بخاری (۱۲۹۱) کتاب الجنائز'۳۴-باب ما یکرہ من النیاحۃ علی المیت …عن المغیرۃ ۔ وھو ایضًا في البخاری (۱۱۰) کتاب العلم'۳۸-باب إثم من کذب علی النبی صلي اللّٰہ عليه وسلم ۔ومسلم (۳) المقدمۃ '۲-: باب تغلیظ الکذب علی رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ عليه وسلم من حدیث أبي ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ۔ وبلا المقدمۃ '۱۔ باب وجوب الروایۃ عن الثقات و ترک الکذابین والتحذیرمن الکذب علی رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ عليه وسلم من حدیث المغیرۃ بن شعبۃ و سمرۃ بن جندب رضی اللّٰہ عنہما۔وانظر (( الفتح ) ) (۱/۲۰۳-۲۰۴) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت