فهرس الكتاب

الصفحة 29 من 107

اس کا جواب یہ ہے: اگر اس حدیث کو دو سندوں سے روایت کیا گیا ہے ' تو اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اس کی ایک سند حسن ہے اور دوسری صحیح ۔ تو دونوں وصفوں میں باعتبار سند کے جمع کردیا ہے ۔

اوراگر حدیث کی سند ایک ہی ہو تو اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ: اس میں تردد ہے کہ کیا یہ حدیث صحت کے مرتبہ کو پہنچ گئی ہے یا حسن کے مرتبہ میں ہے ۔

منقطع السند :

أ۔ اس کی تعریف [ معنی] ب۔ اس کی اقسام ج۔ اس کا حکم

اس کی تعریف: ''ھو الذي لم یتصل سندہ۔''

'' وہ حدیث ہے جس کی سند متصل نہ ہو۔''

صحیح اور حسن حدیث کی شروط میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ:'' ان کی سند متصل ہو۔''

ب:اس کی اقسام: منقطع السند کی چار اقسام ہیں: مرسل ' معلق ' معضل ' منقطع

۱: مرسل: ''ما رفعہ إلی النبي صلي اللّٰہُ عليه وسلم صحابي'لم یسمع منہ ' أو تابعي۔''

'' مرسل وہ حدیث جس کو صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نہ ہو' یا تابعی ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث کو منسوب کرے) ۔''

۲: معلق: '' ما حذف أول أسنادہ۔''

'' وہ حدیث ہے جس کی سند شروع سے حذف کردی جائے ۔''

کبھی اس سے ساری سند کا حذف کرنا بھی مرادلیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

(( وكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یذکر اللّٰہ في کل أحیانہ۔ ) ) [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت