جس سے فکر منتشر ہوتی ہو۔
جن الفاظ سے حدیث کو اداء کیا جاتا ہے ' ان کے کئی صیغے اور مراتب ہیں ' ان میں سے:
پہلا مرتبہ…: سمعت ( میں نے سنا) ، حدثني ( مجھ سے حدیث بیان کی) ، جب وہ اکیلا شیخ سے سن رہا ہو' جب اس کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں تو اس وقت ''سمعنا'' ( ہم نے سنا) اور حدثنا ( ہم سے حدیث بیان کی ) کہا جائے گا ۔
دوسرا مرتبہ…: قرأت علیہ ( میں نے شیخ کو پڑھ کر سنایا) ، أخبرنی قرأۃ علیہ ( مجھے خبر دی ' ان کوپڑھ کر سناتے ہوئے ) ۔ أخبرنی اس وقت ہوگا جب شاگرد شیخ کو پڑھ کر سنارہا ہوگا۔
تیسرا مرتبہ…: قریء علیہ و أنا أسمع ( شیخ پر پڑھا گیا اور میں سن رہا تھا ) ، قرأنا علیہ ( ہم نے شیخ پر پڑھا ) ، أخبرنا (ہمیں خبر دی گئی) ، جب شیخ پر پڑھا جائے اور وہ سن رہا ہو۔
چوتھا مرتبہ…: أخبرنی إجازۃ ( انہوں نے مجھے اجازت دیتے ہوئے اس کی خبر دی ) ، حدثنی إجازۃ (انہوں نے مجھے اجازت دیتے ہوئے حدیث بیان کی ) ، أنبأنی (انہوں نے مجھے بتایا ) ، عن فلان ( فلاں سے روایت ہے ) جب وہ اس شیخ سے اجازت سے روایت کررہا ہو۔
یہ متأخرین کے ہاں ہیں ۔ جب کہ متقدمین کے ہا ں: '' حدثنی ' أخبرنی ، وأنبأنی سب ایک ہی معنی میں ہیں ۔ ان الفاظ سے وہ حدیث کو ادا کرتا ہے جس نے شیخ سے سنا ہے ۔
باقی صیغوں کو ہم چھوڑتے ہیں 'ان سے تعارض نہیں کیا 'جن سے حدیث کو ادا کیا جاتا ہے ۔
کتابت ِ حدیث: