تیسرا مرتبہ: جو ثقات کی قید کے بغیر کثرت سے تدلیس کرتا ہو۔جیسے کہ ابو زبیر مکی ۔
چوتھا مرتبہ: جو اکثر تدلیس ضعفاء اور مجہول لوگوں سے کرتا ہو' جیسے بقیہ بن ولید ۔
پانچواں مرتبہ: جس میں کسی اور قسم کا بھی ضعف ملا ہوا ہو' جیساکہ عبد اللہ بن لہیعۃ ۔
د: مدلس کی حدیث کا حکم: مدلس حدیث غیر مقبول ہے ، سوائے اس کے کہ راوی ثقہ ہو اور وہ راوی سے براہ راست روایت کرنے کی صراحت کرے ۔ مثال کے طور پر وہ کہے: ''سمعت فلانًا یقول '' یا کہے: '' رأیتہ یفعل'' یا پھر کہے: ''حدثني'' ، اور اس طرح کے دیگر الفاظ ۔ لیکن جو امام بخاری اور مسلم رحمہم اللہ نے اپنی صحیحین میں ثقات مدلسین سے تدلیس کے صیغہ کیساتھ روایت کیا ہو ' وہ مقبول ہے ۔ اس لیے کہ امت نے ان کتب میں موجود روایات کو بغیر تفصیل کے قبول کیا ہے ۔
(۱) … مضطرب کی تعریف: (ب) … اس کا حکم:
مضطرب کی تعریف:
'' ما اختلف الرواۃ في سندہ أو متنہ ' و تعذر الجمع في ذلک و الترجیح۔''
'' وہ حدیث جس کی سند یا متن میں راویوں کا اختلاف ہو' اور ان میں جمع اور ترجیح نا ممکن ہو۔''
اس کی مثال: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ' وہ فرماتے ہیں: بیشک انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
(( أراک شبت ۔ قال: '' شیبتني ھود و أخواتہا '' [1] ، [2]
[2] عطاء کہتے ہیں: ''اخواتہا''سے مراد: ''اقتربت الساعۃ ؛ إذا الشمس کورت اور المرسلات ہیں ۔