فهرس الكتاب

الصفحة 77 من 107

'' حدیث کو اپنے بیان کرنے والے ( استاد/ شیخ ) سے لینا ۔''

(ب)اس کی شروط:

اس کی تین شروط ہیں:

(۱) … تمیز: اس سے مرادخطاب ( کلام) کو سمجھنا اور اس کا صحیح جواب دینا ہے ۔ غالب طور پر سات سال کی عمرمکمل ہونے پر یہ تمیز حاصل ہوجاتی ہے ۔

جسے چھوٹا ہونے کی وجہ سے تمیز حاصل نہ ہو، اس سے حدیث نقل کرنا صحیح نہیں ہے ۔ اور ایسے ہی جوانسان بڑی عمر کی وجہ سے تمیز کھوبیٹھا ہو؛ اس سے تحمل حدیث درست نہیں ۔

(۲) … عقل: مجنون ' یا عقل میں خلل والے سے حدیث قبول نہیں کی جائے گی۔

(۳) … موانع سے سلامتی: نیند کے غلبہ ' یا ایسی مشغولیت کی وجہ سے حدیث قبول نہیں ہوگی جس سے فکر منتشر ہوتی ہو۔

ج: اس کی اقسام:

اس کی بہت سی اقسام ہیں ، ان میں سے:

۱: شیخ کے لفظ سے سماعت ، اس میں سب سے اعلی قسم املاء سے لکھوانا ہے ۔

۲: شیخ پر پڑھ کر سنانا ، اسے پیش کرنا بھی کہتے ہیں ۔

۳: اجازت: یہ کہ شیخ اسے اپنے سے روایت کرنے کی اجازت دے ،خواہ یہ اجازت لفظًا ہو یا کتابت سے ۔

اجازت سے روایت کرنا اس کی ضرورت کے پیش نظر جمہور علماء کے نزدیک درست ہے ' اور اس کی درستگی کی تین شروط ہیں:

پہلی شرط…: یہ کہ جس کی اجازت دی جارہی ہے ' وہ معلوم ہو' یا اس کے متعین کرنے ' جیسے کہے:

'' میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم مجھ سے صحیح بخاری روایت کرو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت