صالح ، مقارب ؛ یا کہا جائے: ''یروی حدیثہ: [ اس کی حدیث روایت کی جاتی ہے] ۔ یا اس طرح کے الفاظ ۔ اور اس کے مابین کے مراتب معلوم شدہ ہیں ۔
تعدیل کے قبول ہونے کی چار شرائط ہیں:
۱: تعدیل کرنے والا عادل ہو' فاسق کی تعدیل قبول نہیں ہوگی۔
۲: تعدیل کرنے والا بیدار مغز اور چوکنا عالم ہو' غافل کی تعدیل قبول نہیں ہوگی۔جسے کسی انسان کی ظاہری حالت دھوکہ دے دے ۔
۳: یہ کہ تعدیل کرنے والا اس کے اسباب سے واقف ہو، جوقبول اور رد کی صفات کو نہیں جانتا اس کی تعدیل قبول نہیں کی جائے گی۔
۴: یہ تعدیل کسی ایسے انسان کے متعلق نہ ہو جو اپنی ایسی صفات کی وجہ سے مشہور ہو' جن سے اس کی روایت کا رد کرنا لازم آتا ہو۔جیسے جھوٹ ؛ کھلم کھلا فسق یا کوئی دیگر وصف۔
جرح اور تعدیل میں تعارض:
(۱) … اس کی تعریف (ب) … اس کے احوال
(ا) تعارض جرح و تعدیل کی تعریف:
یہ کہ کسی راوی کو ایسے ذکرکیا جائے جس سے اس کی روایت کا رد کرنا بھی واجب ہوتا ہو' اور اس کا قبول کرنا بھی لازم آتاہو، مثال کے طور پر: بعض علماء اس کے متعلق کہیں کہ:''بیشک یہ ثقہ ہے ۔'' اور بعض دوسرے علماء اس کے متعلق کہیں کہ: '' یہ ضعیف ہے ۔''
(ب) جرح و تعدیل میں تعارض کے احوال:
جرح و تعدیل میں تعارض کے چار احوال ہیں:
حال اوّل: یہ کہ دونوں مبہم ہوں ۔ یعنی کہ اس میں نہ ہی تعدیل کا سبب ظاہر او رواضح