فهرس الكتاب

الصفحة 89 من 908

کلام اللہ کی فضیلت

1۔سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( فَضْلُ کَلَامِ اللّٰہِ عَلیٰ سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ اللّٰہِ علیٰ خَلْقِہ ) ) [1]

(رواہ الترمذي والدارمي والبیہقي في شعب الإیمان،وقال الترمذي: ھٰذا حدیث حسن غریب)

[اللہ کے کلام کو دوسرے کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے،جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے]

2۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

(( فَضْلُ الْقُرْآنِ علیٰ سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ الرَّحْمٰنِ علیٰ سَائِرِ خَلْقِہِ ) ) [2]

(رواہ أبو یعلیٰ والطبراني)

[قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہے،جیسے رحمان کی فضیلت اپنی ساری مخلوق پر ہے]

3۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے رب سے باتیں کرنا چاہے تو وہ قرآن پڑھے۔ [3] (رواہ الخطیب والدیلمي)

4۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

(( خَیْرُ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ،وَخَیْرُ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم ) ) [4] (رواہ مسلم)

[بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ ہے]

[2] معجم أبي یعلیٰ الموصلي (۲۸۹) شعب الإیمان للبیہقي (۳/۵۰۱) اس کی سند بھی ضعیف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ،رقم الحدیث (۱۳۳۴)

[3] ضعیف جدا۔تاریخ بغداد (۷/ ۲۳۹) فیض القدیر (۱/ ۲۴۸) ضعیف الجامع،رقم الحدیث (۲۹۳)

[4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۶۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت