1۔سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( فَضْلُ کَلَامِ اللّٰہِ عَلیٰ سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ اللّٰہِ علیٰ خَلْقِہ ) ) [1]
(رواہ الترمذي والدارمي والبیہقي في شعب الإیمان،وقال الترمذي: ھٰذا حدیث حسن غریب)
[اللہ کے کلام کو دوسرے کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے،جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے]
2۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(( فَضْلُ الْقُرْآنِ علیٰ سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ الرَّحْمٰنِ علیٰ سَائِرِ خَلْقِہِ ) ) [2]
(رواہ أبو یعلیٰ والطبراني)
[قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہے،جیسے رحمان کی فضیلت اپنی ساری مخلوق پر ہے]
3۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے رب سے باتیں کرنا چاہے تو وہ قرآن پڑھے۔ [3] (رواہ الخطیب والدیلمي)
4۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(( خَیْرُ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ،وَخَیْرُ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم ) ) [4] (رواہ مسلم)
[بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ ہے]
[2] معجم أبي یعلیٰ الموصلي (۲۸۹) شعب الإیمان للبیہقي (۳/۵۰۱) اس کی سند بھی ضعیف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ،رقم الحدیث (۱۳۳۴)
[3] ضعیف جدا۔تاریخ بغداد (۷/ ۲۳۹) فیض القدیر (۱/ ۲۴۸) ضعیف الجامع،رقم الحدیث (۲۹۳)
[4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۶۷)