اسی طرح {وَالْعٰدِیٰتِ} (سورۃ العادیات) کو۔ [1] (رواہ الترمذي)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں {اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ} (سورۃ التکاثر) کو ہزار آیات کی قراء ت کے برابر کہا ہے۔ [2] (رواہ الحاکم)
سورۃ الکافرون کی فضیلت:
1۔سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''اقرأ {قُلْ ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْن} ثم نم علی خاتمتھا،فإنھا براء ۃ من الشرک'' [3]
(رواہ أحمد والحاکم)
[ {قُلْ ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْن} (سورۃ الکافرون) پڑھو،پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ تو یقینا یہ شرک سے براء ت ہے]
2۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(( أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِنَ الِإشْرَاکِ بِاللّٰہِ؟ تَقْرَأُوْنَ {قُلْ ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْن} عِنْدَ مَنَامِکُمْ ) ) [4] (رواہ أبو یعلیٰ)
[کیا میں تمھاری راہنمائی نہ کروں ایک ایسے کلمے پر جو تم کو اللہ کے ساتھ شرک سے نجات دے؟ تم سوتے وقت {قُلْ ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْن} (سورۃ الکافرون) پڑھا کرو]
سورۃ النصر کی فضیلت:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں {اِِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ} (سورۃ النصر) کو ربع قرآن فرمایا ہے۔ [5] (رواہ الترمذي)
[2] المستدرک للحاکم (۱/ ۷۵۵) امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں''عقبہ (بن محمد بن عقبہ) راوی غیر معروف ہے۔
[3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۰۵۵) مسند أحمد (۵/ ۴۵۶) المستدرک للحاکم (۱/ ۷۵۴)
[4] المعجم الکبیر للطبراني (۱۲/ ۲۴۱) اس کی سند میں''جبارہ بن مغلس'' سخت ضعیف ہے۔
[5] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۹۵) اس کی سند میں''سلمۃ بن وردان'' ضعیف ہے۔