فضائل:
1۔سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ مرفوعًا کہتے ہیں:
(( قَلْبُ الْقُرْآنِ یٰسِیْنُ لَا یَقْرَأُھَا رَجُلٌ یُرِیْدُ اللّٰہَ وَالدَّارَ الآخِرَۃَ إِلاَّ غُفِرَ لَہٗ،إِقْرأُوْھَا عَلٰی مَوْتَاکُمْ ) ) [1] (رواہ النسائي)
[سورت یٰسین قرآن مجید کا دل ہے،جو آدمی بھی اللہ کے لیے اور آخرت کے لیے اس کی تلاوت کرتا ہے اسے بخش دیا جاتا ہے،اسے اپنے مردوں (قریب المرگ لوگوں) پر پڑھو]
اس حدیث سے ظاہر تو یہ ہے کہ موت کے حاضر ہونے کے وقت پڑھے،لیکن لفظ کا عموم موت کے بعد پڑھنے کو بھی شامل ہے۔
2۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(( إِنَّ لِکُلِّ شَیْیٍٔ قَلْبًا،وَقَلْبُ الْقُرْآنِ یٰسِیْنُ،مَنْ قَرَأَ یٰسِیْن کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بِقِرَائَ تِھَا قِرَائَ ۃَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ) ) [2] (رواہ الترمذي والدارمي،وقال الترمذي: ھٰذا حدیث غریب)
[یقینا ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورت یٰسین ہے،جو شخص ایک مرتبہ سورت یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی قراء ت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے]
3۔سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ قَرَأَ یٰسِیْن فِيْ لَیْلَۃٍ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ غُفِرَ لَہٗ ) ) [3] (رواہ مالک)
[2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۸۷) سنن الدارمي (۲/۵۴۸) اس کی سند میں''ہارون ابو محمد'' مجہول ہے۔
[3] نیز دیکھو: تحفۃ الذاکرین (ص: ۳۱۳) [مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ] سنن الدارمي (۲/ ۵۴۹) صحیح ابن حبان (۶/ ۳۱۲) اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں۔