فهرس الكتاب

الصفحة 54 من 908

[سو انھیں قوت کے ساتھ پکڑ اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کی بہترین باتوں کو پکڑے رکھیں ]

نیز فرمایا:

{وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُم} [الزمر: ۵۵]

[اور اس سب سے اچھی بات کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے]

مزید فرمایا:

{فَبَشِّرْ عِبَادِ*الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ} [الزمر: ۱۷،۱۸]

[سو میرے بندوں کو بشارت دے دو،وہ جو کان لگا کر بات سنتے ہیں،پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ]

اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیات میں ہر شخص کو قرآن مجید کی ہمیشہ قراء ت و تلاوت کرنے کی تحریض و ترغیب اور تنبیہ و تعلیم فرمائی ہے،غافلوں کو خوابِ خرگوش سے جگایا ہے اور جو لوگ غیرِ قرآن میں مصروف ہیں،ان کو ترہیب و تہدید اور توبیخ فرمائی ہے۔

فرمانِ الہٰی ہے:

{اَوَ لَمْ یَکْفِھِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْھِمْ} [العنکبوت: ۵۱]

[اور کیا انھیں یہ کافی نہیں ہوا کہ بے شک ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی،جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے؟]

حکایت:

ایک شخص نے شبلی۔قدس سرہ۔سے کہا کہ مجھے کچھ وصیت کریں۔انھوں نے جواب دیا:

''علیک بالقرآن،ودع ما سواہ،وکن معہ،ثم ذرھم في خوضھم یلعبون ''

[قرآن کو تھام لو اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے اسے چھوڑ دو،پھر اس کے ساتھ وابستہ ہو کر باقیوں کواپنی بے ہودہ گوئیوں میں کھیلتا ہوا چھوڑ دو]

بعض اہلِ معرفت نے کہا ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت