[اور کیا ہم نے تمھیں اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا کر لیتا]
یا یہ استدراج کے لیے ہے،جیسے اس کا ارشاد ہے:
{اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًا} [آل عمران: ۱۷۸]
[ہم تو انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں ]
یہ بھی کہتے ہیں کہ آیت کا معنی مہلت اور موقع دینے کی دعا ہے۔زجاج رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: اس کی تاویل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کی ضلالت کا بدلہ دنیا میں انھیں ترک کر دینا اور چھوٹ دینا بنایا ہے۔ [1] آیت میں ان سے عدمِ تعرض کا حکم نہیں ہے کہ آیتِ سیف سے منسوخ ہو۔
چوتھی آیت:
{فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْھِم} [مریم: ۸۴] [پس تو ان پر جلدی نہ کر]
کہتے ہیں کہ یہ آیتِ سیف سے منسوخ ہے۔
امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ سورت سب کے نزدیک مکی ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما اسی کے قائل ہیں۔ [2] اس میں دو یا تین آیات منسوخ ہیں۔
پہلی آیت:
{وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ} [طٰہٰ: ۱۱۴] [اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر]
یہ آیت اﷲکے ارشاد: {سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی} [الأعلیٰ: ۶] [ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا] سے منسوخ ہے۔
دوسری آیت:
{فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ} [طٰہٰ: ۱۳۰] [سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں ]
یہ آیتِ سیف سے منسوخ ہے۔یہ اس صورت میں ہے جب صبر کا معنی ترکِ قتال ہو اور اگر
[2] فتح القدیر (۳/ ۳۸۸)