فهرس الكتاب

الصفحة 166 من 908

سورۃ الاخلاص کے فضائل و خواص

1۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} (سورۃ الاخلاص) پڑھتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔میں (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت۔ [1] (رواہ مالک)

2۔ان سے دوسری روایت میں مروی الفاظ یوں ہیں:

(( إِنَّھَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ) ) [2] (رواہ مسلم)

[بلا شبہہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے]

3۔سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین جزو ٹھہرائے،ان میں سے ایک جزو قرآن {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} (سورۃ الاخلاص) ہے۔ [3]

(رواہ مسلم)

4۔سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص ہر رات ثلث قرآن نہیں پڑھ سکتا ہے؟ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} (سورۃ الاخلاص) ثلث قرآن ہے۔ [4] (رواہ الترمذي)

5۔سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں کہا ہے:

(( وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ! إِنَّھَا لَتَعْدِلُ ثُلَثَ الْقُرْآنِ ) ) [5] (رواہ البخاري)

[قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کہ بلا شبہہ وہ (سورۃ الاخلاص) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے]

6۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ کیا تو نے شادی کر لی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں،

[2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۹۳۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۲)

[3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۱)

[4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۲۷) صحیح مسلم (۸۱۱) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۹۶)

[5] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۹۳۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت