فهرس الكتاب

الصفحة 155 من 908

سورۃ الملک کے فضائل و خواص

1۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا ہے:

(( إِنَّ سُوْرَۃً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُوْنَ آیَۃً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰی غُفِرَ لَہٗ وَھِيَ {تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ} ) ) [1] (رواہ الترمذي وابن حبان والحاکم وسائر أہل السنن وأحمد)

[یقینا قرآن میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ہے،جس نے ایک آدمی کے بارے میں سفارش کی،حتیٰ کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورت،سورۃ الملک ہے]

2۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا مروی حدیث میں آیا ہے:

(( ھِيَ الْمَانِعَۃُ الْمُنْجِیَۃُ تُنْجِیْہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ) ) [2] (رواہ الترمذي،وقال: حدیث غریب)

[یہ''مانعہ'' (روکنے والی) اور''منجیہ'' (نجات دینے والی) ہے،جو اسے عذابِ قبر سے بچائے گی]

3۔امام حاکم رحمہ اللہ نے اس روایت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

(( ھِيَ فِيْ التَّوْرَاۃِ مَنْ قَرَأَھَا فِيْ لَیْلَۃٍ فَقَدْ أَکْثَرَ وَأَطْیَبَ ) ) [3]

(وھو صحیح الأسناد وھو في النسائي مختصرًا)

[یہ (سورۃ الملک) تورات میں ہے،جس نے اسے ایک رات میں پڑھا،اس نے بہت اچھا اور پاکیزہ کام کیا]

4۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

[2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۹۰)

[3] المعجم الکبیر (۱۰/ ۱۴۲) المستدرک للحاکم (۲/۵۴۰) صحیح الترغیب (۲/ ۹۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت