1۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے:
(( لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا مُبَشِّرَاتٌ،قَالُوْا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ ) ) [1] (رواہ البخاري)
[نبوت میں سے صرف''مبشرات'' باقی رہ گئے ہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: مبشرات کیاہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے خواب]
امام مالک رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں:
(( یَرَاھَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُریٰ لَہٗ ) ) [2]
[ (وہ خواب) جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اس کی خاطر (کسی دوسرے کو) دکھایا جاتا ہے]
2۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے:
(( اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّۃٍ وَّ أَرْبَعِیْنَ جُزْئًا مِنَ النُّبُوَّۃِ ) ) [3] (متفق علیہ)
[نیک آدمی کے سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ]
3۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(( مَنْ رَآنِيْ فِيْ الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِيْ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ صُوْرَتِيْ ) ) [4]
[جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقینا اس نے مجھے ہی دیکھا،کیوں کہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا]
[2] الموطأ للمالک (۲/۹۵۷)
[3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۵۸۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۲۶۳)
[4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۸۴۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۲۶۶)