(( تَکْفِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْیٍٔ ) ) [1] (رواہ الترمذي وأبوداؤد والنسائي)
[ (ان تینوں سورتوں کا پڑھنا) تجھے ہر چیز سے کافی ہو گا]
5۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ پڑھ! انھوں نے پوچھا: کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معوذتین پڑھو:
(( وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِھِمَا ) ) [2] (رواہ النسائي) [ تو ان جیسی کوئی چیز نہیں پڑھے گا]
6۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے۔ [3]
7۔سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا ہے:
(( أَلَا أُعَلِّمُکَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَ فِيْ التَّوْرَاۃِ وَلَا فِيْالزَّبُوْرِ وَلاَ فِيْالْإِنْجِیْلِ وَلاَ فِيْالْقُرْآنِ؟ قُلْتُ: بَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! قَالَ: قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ،وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ،وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس ) ) [4] (أخرجہ أحمد)
[کیا میں تجھے وہ سورتیں نہ سکھاؤں جن جیسی تورات،زبور،انجیل اور قرآن میں نازل نہیں کی گئیں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (ضرور سکھائیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} (سورۃ الاخلاص) ، { قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} (سورۃ الفلق) اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} (سورۃ الناس) ]
8۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
(( أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَفْضَلَ مَا تَعَوَّذَ بِہِ الْمُتَعَوِّذُوْنَ؟ قَالَ: بَلیٰ،قَالَ: قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ،وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس ) ) [5] (رواہ أحمد)
[کیا میں تجھے وہ افضل تعوذ نہ بتاؤں،جس سے پناہ پکڑنے والے پناہ پکڑتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا: کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} (سورۃ الفلق) اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} (سورۃ الناس) ]
[2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۵۴۴۱)
[3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۱۷۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۵۲)
[4] مسند أحمد (۴/۱۵۸)
[5] مسند أحمد (۴/۱۵۲) سنن النسائي،رقم الحدیث (۵۴۳۲)