[جس نے اللہ کا چہرہ تلاش کرتے ہوئے ایک رات میں سورت یٰسین پڑھی تو اسے بخش دیا جائے گا]
اس لیے من جملہ پنج سورہ کے ایک یہ سورت مبارکہ ہوتی ہے۔جو مرد و عورت تمام قرآن کی تلاوت سے محروم رہتے ہیں،ان کے لیے باعتبار مزید اجر اور کثرتِ فضائل سور کے پنج سورہ جمع کیا گیا ہے۔
4۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(( إِنَّ اللّٰہَ قَرَأَ طٰہٰ وَیٰسِیْن قَبْلَ أَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِکَۃُ الْقُرْآنَ قَالَتْ: طُوْبیٰ لأُِمَّۃٍ یَنْزِلُ ھٰذَا عَلَیْھَا وَطُوْبیٰ لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ ھٰذَا وَطُوْبیٰ لِأَلْسِنَۃٍ تَتَکَلَّمُ بِھٰذَا ) ) [1] (رواہ الدارمي)
[یقینا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کی تخلیق سے ہزار برس پہلے سورت طٰہٰ اور سورت یٰسین کی تلاوت فرمائی،جب فرشتوں نے قرآن سنا تو انھوں نے کہا: اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پہ یہ اتارا جائے گا،ان مبارک دلوں کے لیے خوشخبری ہو،اسے یاد کریں گے اور اسے پڑھنے والی زبانوں کے لیے خوشخبری ہو]
5۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعًا کہتے ہیں:
(( مَنْ دَاوَم عَلیٰ یٰسِیْن کُلَّ لَیْلَۃٍ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ شَہِیْدًا ) ) [2] (أخرجہ الطبراني)
[جس نے ہر رات تسلسل کے ساتھ سورت یٰسین کی تلاوت کی،پھر وہ اسی پر فوت ہو گیا تو وہ شہید فوت ہو گا]
6۔امام بخاری رحمہ اللہ نے''الأدب المفرد'' میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعًا روایت کیا ہے:
(( مَنْ قَرَأَ یٰسِیْن فِيْ لَیْلَۃٍ أَصْبَحَ مَغْفُوْرًا لَہٗ ) ) [3]
[جو رات کو سورت یٰسین پڑھے گا وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اسے بخش دیا گیا ہو گا]
[2] وفي إسنادہ سعید بن موسیٰ الأزدي وھو کذاب (تحفۃ الذاکرین،ص: ۳۱۴) [مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ] المعجم الأوسط للطبراني (۷/۱۱۶) المعجم الصغیر (۲/۱۹۱)
[3] مسند أبي یعلیٰ (۱۱/ ۹۳) حلیۃ الأولیاء (۴/ ۱۳۰) ضعیف الجامع،رقم الحدیث (۵۷۸۷)