(( أمرنا أن نخرج في العیدین العواتق۔ ) ) [1]
'' ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم عیدین میں دوشیزاؤں کو-عید گاہ کی طرف- نکالیں ۔''
ان ہی کا دوسرا قول ہے:
(( نہینا عن اتباع الجنائز و لم یعزم علینا۔ ) ) [2]
'' ہمیں منع کیا گیا کہ ہم جنازوں کے ساتھ چلیں ' مگر ہم پر سختی نہیں کی گئی ۔''
اورجیساکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
'' لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو' [صرف یہ کہ حیض والی عورت پر تخفیف کی گئی ] ۔'' [3]
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا قول:
(( وُقِّتَ لنا في قص الشارب و تقلیم الأظافر ونتف الإبط وحلق العانۃ أن لا نترک فوق أربعین لیلۃ ۔ ) ) [4]
'' ہمارے لیے وقت مقرر کیا ، مونچھیں کاٹنے ' ناخن کاٹنے' زیر بغل نوچنے ' اورزیر ناف منڈوانے کے لیے کہ ہم انہیں چالیس رات سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔''
ششم…: صحابی کسی چیز پر حکم لگائے کہ یہ معصیت کا کام ہے: جیساکہ آذان کے بعد مسجد سے نکلنے والے کے لیے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کافرمان ہے:
[2] رواہ البخاري (۱۲۷۸) کتاب الجنائز' ۳۰۔ باب اتباع النساء الجنائز ۔ومسلم (۹۳۸) کتاب الجنائز' ۱۱۔ باب نہی النساء عن اتباع الجنائز۔
[3] رواہ البخاري (۱۷۵۵) کتاب الحج ' ۱۴۴۔ باب طواف الوداع ۔ومسلم (۱۳۲۸) کتاب الحج' ۶۷۔ باب وجوب طواف الوداع و سقوطہ عن الحائض ۔
[4] رواہ مسلم (۲۵۸۹) کتاب الطہارۃ' ۱۶۔ باب خصال الفطرۃ۔