فهرس الكتاب

الصفحة 40 من 107

جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح مرفوع روایت میں ثابت ہے کہ:

'' بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ کندھوں کے برابر کر دیتے، (ایسا آپ ) جب نماز شروع کرتے تو بھی کرتے 'جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے ' '۔بغیر کسی تفریق کے ایسے کیا کرتے۔'' [1]

اگر یہ زیادتی دوسرے راوی کے روایت کے منافی نہ ہو تو اسے قبول کیا جائے گا کیونکہ اس میں زیادہ علم ہے ۔ اس کی مثال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن ہے:

(( ما مِنكُم مِن أحَدٍ يَتَوَضَّأُ فيُبْلِغُ الوَضُوءَ أو یسبغ الوضوء ، ثم یقول: أشْهَدُ أنْ لا إلَهَ إلّا اللّٰہُ وحْدَهُ لا شَرِيكَ له وأَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورَسولُهُ. ، إلّا فُتِحَتْ له أبْوابُ الجَنَّةِ الثَّمانِيَةُ يَدْخُلُ مِن أيِّها شاءَ. ۔ ) ) [2]

'' تم میں سے کوئی ایک ایسا نہیں ہے، جب وہ وضو کرتا ہے ، اور اچھی طرح وضو کرتاہے ،یا وضوء کو پورا پورا کرتا ہے ، اور پھرکہتاہے: '' أشْهَدُ أنْ لا إلَهَ إلّا اللّٰہُ وحْدَهُ لا شَرِيكَ له وأَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورَسولُهُ ۔'' میں گواہی دیتا ہوں ،کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، ،مگر اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،وہ جس سے چاہے داخل ہوجائے۔''

امام مسلم نے اسے دو سندوں سے روایت کیا ہے ۔ ایک میں (وحدہ لاشریک لہ) کے بعد یہ الفاظ زیادہ ہیں: ''إلا اللہ۔''

[2] ومسلم (۲۳۴) کتاب الطہارۃ ' ۶ باب الذکر المستحب عقب الوضوء۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت