اسے بخاری کی روایت واضح کرتی ہے ' کہ آپ نے کہا:
(أسْبِغُوا الوُضُوءَ) فإنَّ أبا القاسِمِ صلي اللّٰہُ عليه وسلم قال:'' ويْلٌ لِلْأَعْقابِ مِنَ النّارِ ۔'' [1]
'' (اچھی طرح وضوء کرو) ، بیشک ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (خشک) ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔''
وسط ِ حدیث کی مثال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی شروع ہونے کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے' جس میں وہ فرماتی ہیں:
(( وكانَ يَلْحَقُ بغارِ حِراءٍ فَيَتَحَنَّثُ فيه(وھو التعبد ) اللَّيالِيَ ذَواتِ العَدَدِ۔ )) [2]
'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار ِ حراء میں خلوت نشین ہوتے اور کئی راتوں تک بندگی (عبادت) کرتے رہتے ۔''
یہ الفاظ: '' (وھو التعبد) امام زہری رحمہ اللہ کی طرف سے ادراج ہے ۔ جسے ان ہی کی سند سے بخاری کی ایک روایت ظاہر کرتی ہے ' جس کے الفاظ یہ ہیں:
(( وكانَ يَلْحَقُ بغارِ حِراءٍ فَيَتَحَنَّثُ فيه -قال:والتحنث التعبد ) اللَّيالِيَ ذَواتِ العَدَدِ ۔ ))
آخر حدیث کی مثا ل: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إن أمتي یدعون یوم القیامۃ غرًا محجلین من آثار الوضوء ۔
[2] متفق علیہ۔رواہ البخاري (۳) کتاب الوضوء'3- باب غسل الأعقاب۔و مسلم (۱۶۰) وبعد (۲۵۲) کتاب الطہارۃ '۷۳باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۔ والروایۃ المفصلۃ عند البخاري (۴۹۵۳) کتاب التفسیر'۹۶- باب سورۃ العلق۔فتح الباري (۸/۷۱۷) ۔