فهرس الكتاب

الصفحة 102 من 107

اس کے مؤلف رحمہ اللہ نے اسے ابواب کی صورت میں مرتب جمع کیا ہے ' اس کی احادیث کی تعداد ۴۳۴۱ تک پہنچتی ہے۔ متأخرین کے ہاں مشہور یہ ہے کہ حدیث کی بنیادی چھ کتابوں میں اس کا چھٹا نمبر ہے ، صرف یہ کہ اس کا رتبہ سنن سے کم ہے ۔یعنی سنن نسانی ' أبوداؤد ' اور ترمذی ۔ یہاں تک کہ کہاگیا ہے جس حدیث میں ابن ماجہ منفرد ہوں ' وہ غالب طور پر ضعیف ہوتی ہے سوائے ابن حجر رحمہ اللہ کے۔وہ فرماتے ہیں: میرے مطالعہ وہ علم کے مطابق یہ معاملہ مطلقًا ایسے نہیں ہے ۔ لیکن جملہ طور پر اس میں ضعیف احادیث موجود ہیں ۔

علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

'' اس میں منکر احادیث ہیں ' اور بہت کم موضوع بھی ہیں ۔''

امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

''بیشک آپ متہم بالکذب اور احادیث چور لوگوں سے روایت کرنے میں متفرد ہیں ۔ اور بعض اوقات کوئی حدیث صرف آپ کی ہی روایت سے پہچانی جاتی ہے (باقی محدثین کے ہاں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا ) ۔''

آپ اکثر احادیث میں باقی اصحاب کتب ستہ کے ساتھ شریک ہیں ۔ یا تو سب کے ساتھ یا بعض کے ساتھ ۔ استاد محمد فؤاد عبد الباقی کی تحقیق کے مطابق ۱۳۳۹ احادیث کی روایت میں آپ منفرد ہیں ۔

٭ ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ:

ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن عبداللہ بن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ (ساکن ھا کے ساتھ ' یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''ۃ'' کے ساتھ ہے ) الربعي مولاہم قزویني۔

آپ عراق کے علاقہ قزوین میں سن ۲۰۹ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اور حدیث کی طلب میں: رے ' بصرہ ' کوفہ اور بغداد، شام 'مصر اور حجاز کا سفر کیا ۔ اور وہاں کے بہت سے مشائخ سے علم حاصل کیا ۔ سن ۲۷۳ ہجری میں انتقال ہوا ۔ اور آپ کی کئی ایک فائدہ مند تصنیفات

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت