[''بے شک قیامت کے دن تاجر لوگ نافرمانوں کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے مگر جس نے تقویٰ اختیار کیا، نیکی اور سچ بولا۔'']
حدیث شریف سے معلوم ہونے والی چار باتیں:
۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں تاجروں کو دعوتِ دین دی۔
۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا آغاز کرنے سے پیشتر [یا معشرَ التُّجَّار!] فرما کر ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔
۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب لوگوں کی صورتِ حال کی مناسبت سے گفتگو فرمائی۔
۴: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیغام انتہائی مختصر اور جامع الفاظ میں پہنچا دیا۔ فصلوات ربي وسلامہ علیہ۔
حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
کُنَّا قَوْمًا نُسَمَّی السَمَا سِرَۃَ، وَکُنَّا نَبِیْعُ بِالْبَقِیْعِ، فَأَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ مِنَ اسْمِنَا، فَقَالَ: