فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 246

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کا ہمیشہ کے لیے باقی رہنا

اسلام کے عالم گیر مذہب ہونے کے دلائل میں سے ایک یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سب سے عظیم معجزہ عطا فرمایا، اس کی نوعیت تمام انبیائے سابقین علیہم السلام کے معجزات سے مختلف ہے۔ سابقہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات وقتی تھے، جو کہ ان کے دنیا میں رہنے تک ان کے ساتھ باقی رہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والا عظیم معجزہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے صدیوں بعد تک موجود ہے اور ہمیشہ ہمیشہ موجود رہے گا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کتنے ہی معجزات عطا فرمائے! چھڑی کا اژدھا بن جانا، بغل میں سے ہاتھ نکالنے پر اس کا روزِ روشن کی طرح واضح ہونا، پتھر پر چھڑی مارنے سے اس سے بارہ چشموں کا پھوٹنا، دریا میں لاٹھی مارنے سے بنو اسرائیل کے لیے راستے کا بننا وغیرہ۔ اسی طرح حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کتنے زیادہ تھے! مادر زاد اندھے اور پھلبہری والے کا ان کے ہاتھ پھیرنے سے شفایاب ہونا، مردے کو قم باذن اللّٰہ [اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ] کہنا اور اس کا زندہ ہوجانا، گھروں میں لوگ جو کھا کر آئے اور جو پیچھے چھوڑ آئے، اس کی خبر دینا وغیرہ۔ لیکن یہ سب معجزات اور اسی طرح دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے تمام معجزات وقتی تھے۔

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''مَا مِنَ الْأَنْبِیَائِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہُ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِيْ أُوْتِیْتُہُ وَحْیًا أَوْحَی اللّٰہُ إِلَيَّ، فَأَرْجُوْ أَنْ أَکُوْنَ أَکْثَرَھُمْ تَابِعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ''۔ [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت