''خَیْرٌ لِيْ؟''
['' (کیا یہ کہنا) میرے لیے بہتر ہے؟''[1]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہاں۔''
حدیث سے معلوم ہونے والی چار باتیں:
۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیادت کے دوران حاصل ہونے والے موقع کو دعوت دین کے لیے استعمال فرمایا۔
۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ توحید دی، کہ دعوتِ دین کی اساس، بنیاد اور نقطہ آغاز یہی دعوت ہے۔
۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض شخص کو [یَا خَال] [اے ماموں] کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کرکے ان کے جذبات کو ابھارا۔
۴: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی موقع پر ایک سے زائد مرتبہ دعوت دی۔ فصلوات ربي وسلامہ علیہ۔
امام بخاری اور امام مسلم نے عطاء بن ابی رباح سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے کہا: ''مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ''کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھلاؤں؟''
میں نے عرض کیا: ''کیوں نہیں۔ (ضرور دکھلائیے) ۔''