فهرس الكتاب

الصفحة 111 من 246

مشرکوں کو دعوت دینا

مشرک کو دعوت دین دینے کے متعلق سیرت مطہرہ میں بہت سے شواہد اور مثالیں موجود ہیں۔ اس سلسلے میں دو مثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔ علاوہ ازیں اس بارے میں بعض شواہد کا ذکر دیگر عنوانوں کے ضمن میں بھی آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ا: سوق ذوالمجاز میں دعوت دینا:

امام احمد نے بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ رضی اللہ عنہ [1] سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِسُوْقِ ذِيْ الْمَجَازَ یَتَخَلَّلُہَا، یَقُوْلُ: ''یٰٓایُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا: ''لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ'' تُفْلِحُوْا۔''

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوق ذو المجاز میں دیکھا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ''اے لوگو! تم ''لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ'' کہو فلاح پالو گے۔''

انہوں نے بیان کیا:

''وَأَبُوْجَھْلٍ یُحْثِيْ عَلَیْہِ التُّرَابَ، وَیَقُوْلُ: ''لَا یَغُرَّنَّکُمْ ھٰذَا عَنْ دِیْنِکُمْ، فَإِنَّمَا یُرِیْدُ لِتَتْرُکُوْا آلِہَتَکُمْ، وَتَتْرُکُوْا اللَّاتَ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت