فهرس الكتاب

الصفحة 140 من 246

حدیث سے معلوم ہونے والی دیگر دو باتیں:

۱: دعوتِ دین کا دینا کسی جگہ میں محصور نہ ہونا، جہاں بھی موقع میسر ہو، دعوتِ دین دی جائے گی۔

۲: مخاطب لوگوں کی طرف سے بدسلوکی کا سامنا کرنے کے لیے داعی کو ذہنی طور پر قبل از وقت تیار رہنا چاہیے۔

مجوسیوں کو دعوتِ دین

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوسیوں کو بھی دعوتِ اسلام دی۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ:

''یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ایک مکتوب کسری [1] کے نام بھیجا اور انہیں حکم دیا، کہ وہ اسے بحرین کے گورنر کو دے دیں۔

بحرین کے گورنر نے وہ مکتوب کسری کو دیا۔

جب کسری نے اس کو پڑھا، تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔

میرا خیال ہے [2] ، کہ ابن المسیب نے بیان کیا: ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان [3] کے لیے بدعا کی، کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ [4]

[2] اس بات کے کہنے والے ابن شہاب الزہری ہیں۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۸/۱۲۷)

[3] ان سے مراد کسری اور اس کے لشکر ہیں۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۱۲۷) ۔

[4] صحیح البخاري، کتاب المغازي، رقم الحدیث ۴۴۲۴، ۸/۱۲۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت