فهرس الكتاب

الصفحة 183 من 246

''یَا مَعْشَرَ التُّجَارَ! إِنَّ ھٰذَا الْبَیْعَ یَحْضُرُہُ الْکَذِبُ وَالْیَمِیْنُ، فَشُوْبُوْہُ بِالصَّدَقَۃِ۔'' [1]

ہم لوگوں کو ''دلال'' کا نام دیا جاتا تھا اور ہم بقیع کے مقام پر کاروبار کرتے تھے۔ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں ہمارے [سابقہ] نام سے بہتر نام عطا فرمایا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اے تاجرو! بے شک اس کاروبار میں جھوٹ اور قسم شامل ہوجاتی ہے، لہٰذا تم اس کے ساتھ صدقہ ملا لیا کرو (یعنی صدقہ خیرات کرلیا کرو) ۔

حدیث سے معلوم ہونے والی پانچ باتیں:

۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار میں دعوتِ دین دینا۔

۲: مخاطب لوگوں کو اچھے لقب سے پکارنا، کہ اس سے ان کے توجہ اور دھیان سے بات کو سننے اور اس کو قبول کرنے کے امکانات میں اضافہ کی توقع ہوتی ہے۔

۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب لوگوں کے مناسب حال موضوع کے متعلق گفتگو فرمائی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت