'' إذا وُضِعَتِ الجِنازَةُ، فاحْتَمَلَها الرِّجالُ على أعْناقِهِمْ، فإنْ كانَتْ صالِحَةً قالَتْ: قَدِّمُونِي، قَدِّمُونِي، وإنْ كانَتْ غيرَ صالِحَةٍ قالَتْ: يا ويْلَها، أيْنَ يَذْهَبُونَ بها؟ يَسْمَعُ صَوْتَها كُلُّ شيءٍ إلّا الإنْسانَ، ولو سَمِعَها الإنْسانُ لَصَعِقَ۔'' [1] ، [2]
جب جنازہ تیار کرکے رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں ، تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے بڑھاؤ،مجھے آگے بڑھاؤ (جلدی لے چلو) ، اوراگر نیک نہیں ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے بربادی! اسے کہاں لے جارے ہو، اس کی آواز انسان کے علاوہ ہرچیز سنتی ہے، اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہوکر گرپڑے (یا مرجائے) ۔
[2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: (۱۳۱۶، ۱۳۸۰) بروایت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ۔