الدُّعَآئَ فِيْ الرَّخَآئِ۔'' [1]
[''جس شخص کو یہ پسند ہو، کہ اللہ تعالیٰ شدید حادثات اور دل گداز غموں میں اس کی فریاد سنیں، تو وہ صحت، عافیت اور فارغ البالی میں زیادہ دعا کرے''] ۔
ب: امام احمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
''تَعَرَّفْ إِلَیْہِ فِيْ الرَّخَآئِ یَعْرِفْکَ فِيْ الشِّدَّۃِ۔'' [2]
[''خوش حالی میں اُن (یعنی اللہ تعالیٰ) سے شناسائی پیدا کرو،[3] شدید سختی (کے زمانے) میں وہ تجھے پہچان [4] لیں گے'']۔
ربِّ کریم آسودگی میں اپنے سے تعلّق استوار کرنے کی ہم سب کو اور ہماری نسلوں کو توفیق عطا فرما دیں۔ آمین یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ۔
رکاوٹوں سے خالی قبول ہونے والی دعائیں درجِ ذیل تین میں سے ایک نتیجہ
[2] المسند، جزء من رقم الحدیث ۲۸۰۳، ۵/۱۸-۱۹۔ شیخ ارناؤوط اور اُن کے رفقاء نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۵/۱۹) ۔ نیز ملاحظہ ہو: ہامش المسند للشیخ أحمد شاکر ۴/۲۸۶-۲۸۹۔ انہوں نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے)۔
[3] (تَعَرَّفْ إِلَیْہِ فِيْ الرَّخَآئِ) یعنی تم ان کی فرماں برداری کے ساتھ چمٹنے اور نافرمانی سے بچنے کے ذریعہ اُن سے محبت کرو۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند للشیخ ارناؤوط ۵/۲۰) ۔
[4] (یَعْرِفْکَ فِيْ الشِّدَّۃِ) : یعنی شدید سختی کے زمانے میں وہ تمہاری مدد فرمائیں گے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۵/۲۰) ۔