ایمان والے لوگوں کے لیے یقینا (بہت سی) نشانیاں ہیں]۔
{لَہٗ مَقَالِیدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ إِِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} [1]
[اُنہی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔ جس کے لیے چاہتے ہیں، رزق فراخ کر دیتے ہیں اور (جس کے لیے چاہتے ہیں،) تنگ کر دیتے ہیں، بلاشبہ وہ ہی ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں] ۔
ان آیاتِ شریفہ کے حوالے سے سات باتیں:
[جس کو چاہیں بغیر حساب کے رزق دیتے ہیں] کو چار مرتبہ
اور
[وہ جس کے لیے چاہیں، رزق میں فراخی کرتے ہیں اور جس کے لیے چاہیں، تنگی کرتے ہیں] کو تین دفعہ فرمایا ہے۔
اتنی مرتبہ فرمائی ہوئی یہ حقیقت کس قدر اٹل، قطعی، حتمی اور یقینی ہو گی!