کس قدر زیادہ ہو گی!
[جملہ اسمیہ] بیان کردہ حقیقت کے [دوام اور ثبوت] پر دلالت کرتا ہے، کہ [اپنی مشیئت سے رزق دینا] ربِّ کریم کی دائمی اور ابدی صفت ہے، کوئی وقتی یا عارضی کیفیت نہیں۔ [1]
[جملہ فعلیہ] بیان کردہ حقیقت کے [استمرار و تسلسل] کو واضح کرتا ہے، کہ مولائے کریم کا اپنی مرضی سے [مخلوق کے رزق میں وسعت اور تنگی فرمانا] ہر روز ہی نہیں، بلکہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی ایک تسلسل والی صفت ہے۔ [2]
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ! سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ!
پہلا معنیٰ: مخلوق کے اندازے، توقعات اور حساب و کتاب سے ماوراء عطا فرماتے ہیں، کہ ان کی تصوراتی صلاحیت اور شمار کرنے کی استعداد ربِّ کریم کے عطا کردہ رزق کی نوعیت، کیفیت اور مقدار کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ [3]
دوسرا معنیٰ: ان کے استحقاق کے بقدر نہیں، بلکہ اپنی جانب سے از راہِ نوازش اور مہربانی۔ [4]
جہاں تک علیم و خبیر رب ذوالجلال کا تعلق ہے، تو اُن کے ہاں تو ہر چیز قطعی طور پر
[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲۲/۷۵۔
[3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱/۳۸۲۔
[4] ملاحظہ ہو: الکشاف ۱/۴۲۷؛ و تفسیر البیضاوي ۱/۱۵۸؛ و تفسیر ابن کثیر ۱/۳۸۲؛ و تفسیر أبي السعود ۲/۳۰۔