[اور کتنے ہی چلنے والے (جان دار) ہیں، (جو) اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی اور وہ ہی سب کچھ سننے والے اور سب کچھ جاننے والے ہیں] ۔
(لَا تَحْمِلُ رِزْقَہَا) کے مفسرین کے بیان کردہ معانی میں سے تین حسبِ ذیل ہیں:
پہلا معنیٰ: وہ اس قدر لاغر، ناتواں اور کمزور ہیں، کہ اپنا رزق اٹھانے کی بھی اُن میں استعداد نہیں۔
[2] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۳/۴۶۲۔