فهرس الكتاب

الصفحة 36 من 96

دوسرا معنیٰ: وہ اپنے ضعف اور کمزوری کی بنا پر رزق حاصل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

تیسرا معنیٰ: وہ حاصل شدہ رزق کو محفوظ نہیں کرتے، بلکہ ساتھ ساتھ استعمال کرتے جاتے ہیں، وہ مکمل طور پر خالی از رزق نکلتے ہیں، لیکن رب رزّاق انہیں رزق عطا فرما کر لوٹاتے ہیں۔ [1]

رزق سے کوئی اس لیے محروم نہیں رہے گا، کہ تنگ دستی، مفلسی، عسرت اور فاقہ کشی کے وقت اُس کی فریاد سُنی ہی نہ جائے یا اُس کی کیفیت سے آگاہی نہ ہو۔

رب رزّاق وہ ہیں، کہ تنگ دستوں، مفلسوں، عسرت اور فاقہ کشی میں مبتلا لوگوں کی فریادوں کو خوب سننے والے ہیں اور یہی نہیں، بلکہ اپنی زبان سے اُن کے صورتِ

[2] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۱۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۳؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۴۶؛ و تفسیر السعدي ص ۶۳۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت