یہ حصر کی سب سے زور دار صورت ہے اور معنیٰ یہ ہو گا، کہ اللہ تعالیٰ سے رزق طلب کرو اور اُن کے سوا کسی اور سے رزق طلب نہ کرو، کیونکہ کوئی اور، کسی بھی چیز کا مالک نہیں۔ [5]
آیت شریفہ کا یہ جملہ، پہلے جملے [إِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا] [6] کا منطقی نتیجہ ہے، کہ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی، کسی بھی قسم کے رزق کا مالک ہی نہیں، تو اُس سے رزق کیسے مانگا جائے؟
[2] سورۃ الفاتحۃ/ جزء من الآیۃ ۵۔ [ترجمہ: ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں] ۔
[3] سورۃ الفاتحۃ/ جزء من الآیۃ ۵۔ [ترجمہ: ہم آپ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں] ۔
[4] سورۃ التحریم/ جزء من الآیۃ ۱۱۔ [ترجمہ: [اے] میرے رب! میرے لیے اپنے ہی پاس جنت میں گھر بنا دیجیے]۔
[5] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۳/۴۴۹۔
[6] ترجمہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سوا، جن کی تم عبادت کرتے ہو، تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں۔