فهرس الكتاب

الصفحة 43 من 246

تنبیہ:

عام دستور کے مطابق [حال] کو [ذوالحال] کے بعد ذکر کیا جاتا ہے، لیکن اس آیت کریمہ میں حال [کَآفَّۃً] کو ذوالحال [لِلنَّاسِ] سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عطیہ اندلسی تحریر کرتے ہیں: '' [کآفۃ] حال ہونے کی بنا پر منصوب [1] ہے اور اس کو اہتمام کی خاطر پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ [یعنی اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے اہتمام کے پیش نظر، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سب لوگوں کے لیے ہے] '' [2]

علامہ رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں: ''یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خصائص میں سے ایک ہے، جن کا ذکر حدیث شریف [أ] [3] [مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں، جو کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں] میں کیا گیا ہے۔'' [4]

د: ارشاد باری تعالیٰ:

{تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا} [5]

[بہت برکت والے ہیں وہ، جنہوں نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمائی، تاکہ وہ سارے جہانوں کے لیے ڈرانے والے بنیں] ۔

جن باتوں پر یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے، ان کا ذکر کرتے ہوئے علامہ

[2] المحرَّر الوجیز ۱۳/۱۳۸۔

[3] مکمل حدیث اور اس کا حوالہ اس کتاب کے صفحات۴۰۔۴۱ پر دیکھیے۔

[4] المحّرر الوجیز ۱۳/۱۳۸۔۱۳۸؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر البغوي ۵/۲۹۱۔۲۹۲؛ وتفسیر الخازن ۵/۲۹۱۔۲۹۲؛ وتفسیر ابن کثیر ۳/۵۹۲؛ والتحریر والتنویر ۲۲/۱۹۷۔۱۹۹؛ وتفسیر القاسمي ۱۴/۲۵۔

[5] سورۃ الفرقان / الآیۃ ۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت