فهرس الكتاب

الصفحة 974 من 6343

(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ' ٓ اِلَّا قَلِیْلًا)

[ الاسراء: 62]

" شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔"

( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ) [ ص: 82]

" کہنے لگا تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔"

( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ' مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ) [ الحجر: 33]

" شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔"

حسد اور تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت اور بسا اوقات دنیا ہی میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبر کا مفہوم اور اس کے نقصانات یوں ذکر فرمائے ہیں:

(اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) [ رواہ مسلم: کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ]

" تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔"

(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ(رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ)

[ رواہ مسلم: کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ]

" حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"

(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ(رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِیْ وَالْعَظْمَۃُ إِزَارِیْ مَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِیْ جَھَنَّمَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع ]

" حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔"

غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں:

(عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ(رض) قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقُلْتُ إِنّیآ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِیْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ) [ رواہ أبوداؤد: کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ]

" حضرت قیس بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو میں نے عرض کی: میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بتلاؤ! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔"

مسائل

1۔ سب سے پہلے ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ 2۔ تکبر کرنا ابلیس کا کام ہے۔

3۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو قطعًا پسند نہیں۔ 4۔ ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت