فهرس الكتاب

الصفحة 359 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: توحید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت اور مشن ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کو اس کی پھر دعوت دی جارہی ہے۔

سورۃ البقرہ میں یہودیوں کو اور سورۃ آل عمران میں نصاریٰ کو مفصل خطاب کرنے کے بعداب دونوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دی جارہی ہے جو تمام انبیاء کی دعوت کی ابتدا اور انتہا ہوا کرتی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں اس بات کی وضاحت و صراحت فرمائی ہے کہ ہم نے جتنے انبیاء مبعوث کیے وہ یہی دعوت دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار کردو۔ الانعام: 88 میں اٹھارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ شرک کرتے تو ان کے سب اعمال ضائع کردیے جاتے۔ یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ اے خاتم المرسلین! ان کو دعوت عام دو کہ آؤ اس بات پر متفق ہوجائیں۔ جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت تھی وہی ہماری دعوت ہے۔ اگر لوگ یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ فرما دیں کہ گواہ رہنا ہم تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ اس دعوت کے تین بنیادی اصول ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔2۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ 3۔ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو معبود کا مقام نہ دیا جائے اس دعوت کا منطقی نتیجہ ہے نبی معظم کو اللہ کا آخری رسول ماناجائے کیونکہ آپ ہی توحید کی دعوت دینے والے ہیں۔ یہی دعوت آپ نے سلطنت رومہ کے فرماں روا ہرقل کو ایک مراسلہ کے ذریعے دی تھی۔ [ رواہ البخاری: کتاب بدء الوحی]

مسائل

1۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان قدر مشترک توحید ہے۔ 2۔ سب کو توحید کی دعوت دینا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت