فہم القرآن
ربط کلام: یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ لیا حالانکہ یہود نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ نہیں لیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ضرور ان سے ان باتوں کا وعدہ لیا ہوا ہے۔
ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان اور احکام ایک ہیں اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا جسے حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ حقوق اللہ کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ اور ان کے ساتھ قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، لوگوں سے اچھی بات کہنا، نماز کا اہتمام کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر دم اچھا سلوک کرتی رہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کی اسی ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے ارشادات فرمائے:
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ(رض) قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ) (رواہ البخاری: کتاب مواقیت الصلوۃ )
" حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: نمازوقت پر ادا کرنا۔ پھر پوچھا تو فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس کے بعد پوچھنے پر آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔"
(عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ أَبَرُّّ قَالَ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ) (رواہ ابو داؤد: باب فی بر الوالدین)
" بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کس سے اچھا سلوک کروں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنے باپ سے اور پھر قریبی رشتہ داروں سے۔"
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ(رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطٰی) (رواہ مسلم: باب الإحسان إلی الأرملۃ۔۔)
" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے رشتہ دار یا کسی دوسرے یتیم کی پرورش کرنے والا اور میں جنت میں ایسے ہوں گے۔ راوی نے درمیانی اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔"
(عَنْ عَاءِشَۃَ(رض) أَنَّ الْیَھُوْدَ دَخَلُوْا عَلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالُوْا أَلسَّامُ عَلَیْکَ فَلَعَنَتْھُمْ فَقَالَ مَالَکِ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَاقَالُوْا قَالَ فَلَمْ تَسْمَعِیْ مَاقُلْتُ وَعَلَیْکُمْ) (رواہ البخاری: باب الدعاء علی۔۔ )
اچھی بات کا حکم: " حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہا: السّام علیک کہ تجھ پر ہلاکت ہو۔ حضرت عائشہ (رض) نے ان پر لعنت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا: عائشہ ! تجھے کیا ہوا ؟ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ آپ نے ان کی بات نہیں سنی۔ فرمایا تو نے میری بات نہیں سنی میں نے وعلیکم کہا کہ تم پر بھی ہو۔"
بیوہ اور مسکین کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت:
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ(رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) السَّاعِیْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ) (رواہ البخاری: باب فضل النفقۃ علی الأھل]
" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیوہ اور مسکین پر نگران اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔"
مسائل
1۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، والدین سے حسن سلوک کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کرنا اور ہمیشہ اچھی بات کہنا، نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ سے عہد نبھانے کے مترادف ہے۔
تفسیر بالقرآن
مقام والدین:
1۔ بنی اسرائیل سے والدین کے ساتھ احسان کا عہدلیا گیا۔ (البقرۃ: 83)
2۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم۔ (بنی اسرائیل: 23) 3۔ والدین کو اف کہنا اور جھڑکناجائز نہیں۔ (بنی اسرائیل: 23)
4۔ والدین کے سامنے عاجزی سے رہنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (بنی اسرائیل: 24)
5۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان: 15) (دیگر احکام کے بارے میں اگلے مقامات پر وضاحت ہوگی)